تمہارا ہو نہ جانے تک
تمہارا ہو نہ جانے تک تمہارا تو نہیں ہوں میں کیوں مجھ پہ حق جتاتے ہو ناکارہ تو نہیں ہوں میں نہ مجھ پہ نظر رکھو تم سمجھتا ہوں میں سب باتیں ہر کسی کا میں ہو جاؤں آوارہ تو نہیں ہوں میں محبت دے کہ تم مجھ پہ بڑا احسان کرتے ہو کیوں مجھ پہ ترس کھاتے ہو بیچارہ تو نہیں ہوں میں مجھے پانے کی خاطر بس ساحل پہ کھڑے ہو تم میں اک گہرا سمندر ہوں کنارہ تو نہیں ہوں میں