غیبت کے علاوہ یہاں ضروری کام ہیں کچھ اور

 غیبت کے علاوہ یہاں ضروری کام ہیں کچھ اور

غلط کام تو کچھ اور ہیں اُن پہ الزام ہیں کچھ اور


گفتگو میں تضاد ان کا نظر آتا ہے اکثر 

وہ پردے میں کچھ اور ہیں اور سرِ عام ہیں کچھ اور


دیکھ کر دولت کو یہاں برلتے ہیں سب لہجے

چمکتے ہوئے لوگوں کے یہاں دام ہیں کچھ اور


ان اُمّتیوں کو اب بھول گئی ہر رسمِ عقیدت 

مذہب کے ٹھیکیداروں کے پیغام ہیں کچھ اور


تبصرے

مشہور اشاعتیں